اردو سے انگریزی میں ترجمہ نگاری کے اصول

اردو سے انگریزی میں ترجمہ نگاری کے اصول

اردو سے انگریزی میں ترجمہ کیسے کریں؟ صرف قواعد کا جان لینا کافی نہیں، اس لیے کہ جب تک آپ کو اچھے سے ترجمہ نگاری نہیں آتی یعنی آپ اردو جملوں کو انگریزی اور اور انگریزی کو اردو میں ترجمہ نہیں کر سکتے تو گرامر اور قواعد پڑھنے کا کیا کیا فائدہ؟

تو آج ہم ایک اہم بحث “ترجمہ نگاری” کی شروع کر رہے ہیں، جس میں ہم اردو سے انگریزی میں ترجمہ کرنے کے کچھ ضروری اور بنیادی اصول پڑھیں گے۔ اگر آپ اس میں محنت کرلیتے ہیں تو آپ کیلیے کسی بھی انگریزی عبارت کا ترجمہ کرنا بہت آسان ہوگا۔

تو چلیے شروع کرتے ہیں…

ترجمہ کسے کہتے ہیں؟

ترجمہ کسے کہتے ہیں؟ ویسے تو “ترجمہ”  کی بہت ساری تعریفات کتابوں میں ملتی ہیں؛ لیکن آسان الفاظ میں یوں سمجھیں کہ:

کسی ایک زبان میں کی گئی بات کو کسی دوسری زبان میں اس طرح بیان کرنا کہ اصل مفہوم برقرار رہے اور دوسری زبان جاننے والوں کیلئے وہ بات قابلِ فہم بھی ہو ’’ترجمہ‘‘ کہلاتا ہے۔

ترجمہ کے اقسام

ترجمہ کی مختلف قسمیں بیان کی جاتی ہیں۔ جیسے؛ علمی، ادبی، صحافتی، لفظی، مفہومی، تفسیری، منظومی، آزاد وغیرہ۔

تفصیلات فن ترجمہ کی کتابوں میں دیکھی جاسکتی ہیں) فی الحال اتناسمجھ لیجیے کہ اگر بہت معیاری مطلوب نہ ہو تو ترجمہ ایسا ہونا چاہیے کہ بس الفاظ اور درست مفہوم کی رعایت کے ساتھ بات واضح ہو جائے۔

اردو سے انگریزی میں ترجمہ نگاری کے اصول

ترجمہ ایک فن ہے جس پر مہارت کیلیے طویل تجربے کی ضرورت ہے، جس کے بہت سے اصول ہیں؛ لیکن ان سب میں نہ الجھتے ہوئے یہاں اتنا جان لیں کہ ترجمہ کیلیے دو زبانوں کا جاننا ضروری ہے،جس سے اور جس میں ترجمہ ہو رہا ہے جس زبان سے ترجمہ کیا جاتا ہے اسے Source Language (اصل زبان) اور جس زبان میں ترجمہ کیا جاتا ہے اسے Target Language (مطلوبہ زبان) کہا جاتا ہے۔

ہمارا مقصد اردو سے انگریزی اور انگریزی سے اردو ہے جس کے ضروری اور اہم اصول نیچے دیے گئے ہیں۔

اردو سے انگریزی ترجمہ کرنے کیلیے چند باتوں کا خاص خیال رکھنا ضروری ہے:

 سب سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ جملہ کون سا ہے یعنی  ٹینس کا ہے یا Simple Sentences(Be forms) والا ہے یا Modal Verbs والا ہے یا Imperative ہے یا Exclamatory ہے یا Optative ہے، کون سا ہے؟

جملہ اگر ٹینس، سمپل سنٹینس یا موڈل وربس میں سے ہے تو یہ دیکھنا چاہیے کہ کون سے طریقہ پر ہے؟ یعنی:1 مثبت، 2 منفی، 3سوالیہ مثبت، 4سوالیہ منفی، 5 سوالیہ مثبت مع ڈبلیو ایچ فیملی، 6 سوالیہ منفی مع ڈبلیو ایچ فیملی، پھر اسی کے حساب سے انگریزی میں ترجمہ کیا جائے۔

یہ دیکھا جائے کہ کہیں اس میں “کہ” یا “جو کہ” جیسے الفاظ تو نہیں آرہے؟ اس لیے کہ اس طرح کے جملے تھوڑے طویل اور پیچیدہ ہوتے ہیں، ان کی انگریزی بناتے وقت بہت دھیان دینا پڑتا ہے۔ جیسے:

Indirect 
I met my friend yesterday, he told me that he was going to get married.

میں کل اپنے ایک دوست سے ملا اس نے مجھ سے کہا کہ وہ شادی کرنے جارہا ہے۔
یہ جملہ indirect میں ہے اس لیے اس میں said کے بجائے told آگیا اور is کی جگہ was آگیا، اس لیے کل گذشتہ کی بات نقل کی جارہی ہے۔
Direct 
I have observed that Khalid often wastes his time.

میں نے یہ مشاہدہ کیا ہے کہ خالد اکثر وقت ضائع کرتا ہے۔

اس میں “کہ” لیے that آیا ہے۔

Sentences 
Can the groom himself, who is a mufti, read the marriage sermon?

کیا خطبہ نکاح خود دولہا، جوکہ خود مفتی ہے، پڑھ سکتا ہے؟

اس میں “جوکہ” کیلیے “Who” لکھ کر وضاحت کی جارہی ہے اور اس سے پہلے اور بعد کوما بھی لگایا دیا گیا ہے۔

Sentences 
Is  zakat obligatory on a widow, who is rich and saved her wealth for her minor children?

کیا بیوہ، جو کہ مالدار (صاحب نصاب)ہے اور اپنے اثاثے اپنے نابالغ بچوں کے مستقبل کے لئے رکھی ہے، پر زکوٰة فرض ہے؟

(4) ترجمہ sentence کا نہیں بلکہ sense (مفہوم/مطلب) کا کیا جاتا ہے یعنی اگر اردو سے ترجمہ کر رہے ہیں تو پہلے اس اردو کی اردو کریں پھر اس کی انگریزی بنائیں تب آسانی سے ترجمہ ہو جائےگا، جیسے ایک جملہ ہے: “وہ گیا، ایسا گیا کہ بس گیا ہی گیا۔”

اگر اس کے مفہوم کے بجائے sentence کو دیکھتے ہوئے لفظی ترجمہ کریں تو کچھ اس طرح بیکار سا ترجمہ ہوگا:

Sentences 
He went, like he went that he went.

He went and went and went.

لیکن جب sense (مفہوم/ مطلب) کو مدنظر رکھیں گے تو اس کا ترجمہ آسان ہو جائے گا اس لیے کہ اس کا مطلب ہے کہ وہ گیا اور واپس نہیں آیا/ وہ ہمیشہ کیلیے چلا گیا:

Sentences 
He went and didn’t come back.

He went for good/ ever.

اسی طرح ایک دوسرا جملہ ہے: “میرا دل باغ باغ ہو گیا۔”

اب اگر صرف جملہ کو دیکھتے ہوئے لفظی ترجمہ کریں تو کچھ اس طرح ہوگا:

My heart became garden garden.

لیکن جب اس جملہ کے sense یعنی  مفہوم کو دیکھتے ہوئے ترجمہ کریں تو چونکہ اس کا مطلب ہے” مجھے بہت خوشی ہوئی”  تو صحیح ترجمہ اس طرح ہوگا:

  • I am/was very happy.
  • I am extremely happy.
  • I am on nine cloud.

ایسے ہی ایک جملہ ہے: “سڑک پر گولیاں چل رہی ہیں۔”

جملہ کے حساب سے ترجمہ ہوگا:

Tablets/bullets are walking on the road.

یہ ترجمہ مضحکہ خیز ہی نہیں بلکہ غلط بھی ہو گیا، لیکن جب sentence کے بجائے sense میں غور کریں تو یہ مطلب ہوگا کہ سڑک پر فائرنگ ہو رہی ہے،اب ترجمہ اس طرح ہوگا:

  • There is firing on the road.
  • It’s firing on the road.
  • Bullets are being fired on the road.

(5) ہر زبان کی طرح اردو کا بھی اپنا ایک مزاج ہے اور انگریزی کا بھی ایک الگ مزاج ہے تو انگریزی بناتے وقت اس کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے، جیسے ہم اردو میں  لفظ “کھانا” جوڑ کر مختلف الفاظ بناتے ہیں لیکن ہر ایک کا مطلب اور مفہوم الگ ہوتا ہے۔ جیسے:

کھانا کھانا، ہوا کھانا، دماغ کھانا، پٹائی کھانا، جوتا/چپل کھانا، قسم کھانا، رشوت کھانا، دھوکا کھانا، بھاؤ کھانا، رحم/ترس کھانا، غم کھانا، شکست کھانا، چغلی کھانا، زخم کھانا، تیر/ گولی کھانا، چوٹ کھانا، دھکا کھانا، ٹکر/ ٹھوکر کھانا، بل کھانا،پیچ وتاب کھانا، میل کھانا، جان کھانا وغیرہ

اس میں پہلے والے “کھانا کھانا” کے علاوہ کوئی بھی ایسا نہیں ہے جو حقیقت میں کھایا جاتا ہو؛ لیکن اردو میں ہم سب کے ساتھ کھانا لفظ استعمال کرتے ہیں حتی کہ جوتے اور چپل کے ساتھ بھی، مگر مفہوم الگ الگ ہوتا ہے تو یہ اردو کا مزاج ہے اور بولنے کا انداز ہے؛ لہذا انگریزی بناتے وقت اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہوگا کہ کہیں “eat” کا لفظ نہ آجائے ورنہ سب غلط ہو جائے گا، ایسے ہی انگریزی میں بھی اس طرح کے الفاظ ہیں، جیسے لفظ”take(لینا)” مختلف الفاظ کے ساتھ مل کرکئی جگہ استعمال ہوتا ہے؛ لیکن ہر جگہ الگ الگ معنی ادا کرتا ہے۔ جیسے:

English  Urdu
Take bath نہالو
Take care دھیان رکھو
Take a break  کچھ وقفہ لے لو
Take tea 🍵 چائے پی لو
Take rest آرام کرلو
Take advantage فائدہ اٹھاؤ
Take time وقت لے لو
Take action کاروائی کرو
Take notes لکھو
Take a step اقدام کرو
Take a walk چلو
Take breakfast ناشتہ کرلو

 ہر ایک میں “take” کا استعمال ہوا ہے، مگر کہیں بھی “لینا” کا ترجمہ نہیں ہوا، اس لیے کہ یہ انگریزی کا مزاج اور انداز ہے، اسی طرح بولا جاتا ہے، مگر مفہوم الگ ہوتا ہے۔

جس طرح اردو کی ایک ہیئت اور ترتیب ہے کہ پہلے فاعل، پھر مفعول اور متعلقات فعل، پھر فعل آتا ہے، اسی طرح انگریزی کی بھی ایک ترتیب ہے کہ پہلے فاعل(subject)، پھر معاون فعل/ فعل(helping verb/verb)، پھر مفعول (Object) اور متعلقات (others) وغیرہ آتے ہیں تو انگریزی بناتے وقت انگریزی کی اس ترتیب اور ہیئت کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

اگر جملہ مختصر ہے تب تو کوئی مسئلہ نہیں، لیکن اگر طویل ہے تو جملے کے مختلف حصے کرلیے جائیں پھر ترجمہ کیا جائے، نیز بیچ میں کیا روابط آئیں گے، کون سا حصہ کس سے جڑے گا، کون پہلے اور کون بعد میں آئےگا ان سب باتوں کو خوب مدنظر رکھا جائے۔

اگر کوئی پیراگراف ہو تو جہاں تک ایک جملہ مکمل ہو رہا ہو پہلے وہاں تک ترجمہ کر لیں، پھر اگلے جملہ کو دیکھیں اسی طرح مکمل پیرگراف کرتے جائیں۔

کبھی کبھی اردو کے شروع میں آج، آج کل، کل، اب، حال ہی میں… وغیرہ جیسے الفاظ آتے ہیں ان کی انگریزی بناتے وقت عام طور پر انہیں شروع میں ہی رکھتے ہیں؛البتہ اگر مناسب نہ لگے تو انہیں اخیر میں بھی رکھ سکتے ہیں۔

 ایک لفظ کے ترجمہ کے لیے انگریزی میں بہت سے الفاظ آتے ہیں، اب کون والا مناسب اور موزوں ہوگا یہ معلوم ہونا ضروری ہے۔ اس کے لیے کچھ دنوں کی محنت اور تجربہ کافی ہوتا ہے، موقع محل سے اور سیاق وسباق سے بھی سمجھ میں آجاتا ہے، لیکن بالکل نہ سمجھ آئے تو مثالیں معاون ثابت ہو سکتی ہیں، کبھی کبھی ایک دوسرے کی جگہ لکھ دیں تو چل جاتا ہے، لیکن کبھی غلط بھی ہو جاتا ہے، جیسے اگر میں کہوں کہ: “میں ویڈیو دیکھ رہا ہوں۔”

اب دیکھنے کیلیے عام طو پر see, look اور watch کا استعمال ہوتا ہے، اب اگر see یا look سے ترجمہ کریں اور کہیں:

  • I am looking at the video.
  • I am seeing the video.

یہ دونوں جملے بن تو گئے، لیکن انگلش میں لفظ video کے ساتھ ان کا استعمال نہیں کرتے ہیں۔ بلکہ اس کے لیے watch کا استعمال کرتے ہیں، کیوں کہ حرکت کرتی ہوئی/ چلتی ہوئی چیز کو دیکھنے کیلیے watch آتا ہے، تو ترجمہ اس طرح ہوگا:

  • I am watching the video.
  • میں ویڈیو دیکھ رہا ہوں

اسی طرح اگر کہنا ہو کہ: “اگر موسم اچھا رہا تو ہم مارکیٹ جائیں گے۔”

تو موسم کیلیے weather, season, climate وغیرہ الفاظ آتے ہیں اب یہاں پر کون سا لگے گا یہ خود طے کرنا ہے، تو مثالوں اور تعریفات وغیرہ سے سمجھ میں آتا ہے کہ سال میں جو چار موسم آتے ہیں سردی، گرمی،برسات اور بہار ان کے لیے season کا استعمال ہوتا ہے۔ اور کسی جگہ کا جو علاقائی موسم ہوتا ہے، جو اکثر ایک ہی رہتا ہے یعنی لمبے وقت تک ایک جیسا موسم رہتا ہے اس کے لیے climate کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ اور جو وقتی حالت ہوتی ہے یعنی منٹوں، گھنٹوں، دنوں، ہفتوں یا مہینوں میں بدلتی رہتی ہے یعنی ابھی گرمی تھی، اچانک بارش ہوگئی، پھر ٹھنڈی بڑھ گئی، کچھ دیر بعد دھوپ نکل گئی اور گرمی تیز ہوگئی وغیرہ تو اس کے لیے weather کا لفظ آتا ہے، تو اب یہاں “اگر موسم اچھا رہا تو ہم مارکیٹ جائیں گے” کی انگلش weather سے بنے گی:

  • If the weather is good, we will go to market.
  • اگر موسم اچھا رہا تو ہم مارکیٹ جائیں گے۔

مشکل یا نامانوس الفاظ کا ترجمہ دیکھنے کیلیے آپ کے پاس ایک عدد مناسب اور معیاری لغت ہونی چاہیے۔ اور یہ کتابی شکل میں بھی دستیاب ہیں، اور آن لائن دیکھنے کیلیے بھی۔

 جب ایک پیراگراف مکمل ہوجا ئے تو اس کا موازنہ اصل  سے کیجئے اور خود سے یہ جاننے کی کوشش کیجئے کہ یہ ترجمہ ’’اصل کے مطابق‘‘ ہے یا نہیں؟ اگر اس سوال کا جواب ’’ہاں‘‘ میں ملے تو پھر اپنے آپ سے ایک اور سوال کیجئے: کہیں یہ ترجمہ، اصل کے مقابلے میں کچھ زیادہ ہی ’’طویل‘‘ تو نہیں ہوگیا؟ اگر ’’ہاں‘‘ تو پھر اسے دوبارہ لکھئے، لیکن اس طرح کہ وہ اصل کی مطابقت میں بھی رہے اور زیادہ رواں بھی ہوجائے، تاکہ ترجمہ پڑھنے والوں کو اس عبارت کا مفہوم بھی بہتر طور پر سمجھ میں آسکے۔ اسی طرح، ایک ایک پیراگراف کرتے ہوئے، پوری تحریر کا ترجمہ کرلیجیے۔

تحریر میں روانی کے ساتھ ساتھ ایک منطقی تسلسل (logical sequence) بھی ہونا چاہیے؛ لہٰذا اس ترجمہ شدہ تحریر کو ایک بار پھر توجہ سے پڑھیے اور یہ جاننے کی کوشش کیجیے کہ کیا ترجمے میں بھی وہی منطقی تسلسل برقرار ہے جیسا اصل تحریر یا گفتگو میں تھا؟ اگر ’’ہاں‘‘ تو بہت خوب!… لیکن ایک بات ہمیشہ یاد رکھیے کہ ہوسکتا ہے کہ جب کوئی ماہر اس ترجمے کو دیکھے اور اس کا موازنہ اصل متن/ گفتگو سے کرے تو اسے بہت سی خامیاں دکھائی دیں۔ ایسے میں خود کو تنقید کیلیے بھی تیار رکھیے، کیونکہ دوسروں کی تنقید سے سیکھنا بھی بہت ضروری ہے۔

ویسے تو ترجمہ نگاری کے اصول بہت سے ہیں؛ لیکن یہاں مختصرا کچھ ضروری ضروری اصول بتادیے گئے ہیں؛ تاکہ انگریزی سے اردو ترجمہ کرنا تک آسان ہو جائے۔

0 thoughts on “اردو سے انگریزی میں ترجمہ نگاری کے اصول”

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top